ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امن معاہدے کے لیے15روز ناکافی ہیں:یمنی وزیرخارجہ

امن معاہدے کے لیے15روز ناکافی ہیں:یمنی وزیرخارجہ

Sat, 23 Jul 2016 15:43:33    S.O. News Service

کویت سیٹی23جولائی(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)کویت میں جاری یمنی امن مشاورت میں شریک حکومتی وفد کا کہنا ہے کہ باغیوں کے وفد کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پندرہ روزکے اندر امن کا حتمی معاہدہ طے پانا خارج از امکان ہے۔یہ بات یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے کویت کے اخبارالرای سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ المخلافی (جو موریتانیہ میں عرب سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے کویت سے کوچ کرگئے ہیں)کے مطابق اگرحوثیوں نے اپنا موقف تبدیل نہیں کیاتواقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد احمد کی جانب سے کی جانے والی مشاورت کے معطل ہوجانے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ حوثیوں کا لڑائی کی کارروائیاں مکمل طور پر روک دینے، امن اور تعاون کی کمیٹی کے علاوہ مقامی کمیٹیوں کو فعال بنانے ، انخلاء کی نگرانی کرنے والی عسکری کمیٹیوں کی تشکیل،ہتھیار حوالے کرنے،انسانی امدادات کے پہنچنے کے لیے پرامن گزرگاہوں کو کھولنے اورقیدیوں اورگرفتارشدگان سے متعلق کمیٹی کے کام کو سپورٹ کرنے پرآمادہ ہونا لازمی امرہے۔بات چیت میں شریک ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ باغیوں کے وفد کے سربراہ محمد عبدالسلام نے جمعرات کے روزہونے والے انفرادی اجلاس میں اقوام متحدہ کے ایلچی اسماعیل ولد الشیخ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ عبدالسلام نے ولد الشیخ کے لیے نامناسب الفاظ استعمال کیے اور کویت کی جانب سے پندہ روز کی مہلت کے اعلان کا ذمہ دار ولد الشیخ کوٹھہرایا۔ذرائع نے تصدیق کی کہ حوثیوں کے ترجمان نے اقوام متحدہ کے ایلچی پر سرکاری وفد کے حق میں جانب داری اوراپنی ذمہ داری میں خیانت کے ارتکاب کا الزام عائد کیا۔علاوہ ازیں جمعے کے روز بھی اسماعیل ولد الشیخ کی جانب سے باغیوں کے وفد کے ارکان کے ساتھ منعقد کیے جانے والے دوسرے انفرادی اجلاس میں بھی کشیدگی کی فضا چھائی رہی۔اجلاس کا مقصد باغیوں کو سنجیدہ مشاورت میں داخل ہونے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کرنا تھا۔


Share: